دیکھا دیکھی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - تاک جھانک، دیدہ بازی۔  یہی مدتوں دیکھا دیکھی رہی دلوں کی کیسو سے نہ ہرگز سہی      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٩٨٥ ) ٢ - جانچ پڑتال، چھان بین۔ "یہاں تک دیکھا دیکھی ہوئے کہ ہر ایک کے لوح دل پر . صورت نقش ہو گئی۔"      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٩٨٥ ) ٣ - مشاہدہ کیا ہوا، خود سے دیکھا ہوا۔ "بھلا دیکھا دیکھی سنا سنی کے برابر کیسے ہو سکتی ہے۔"      ( ١٩٤٠ء، حکایات رومی، ٤٦:٢ ) ١ - نقالی کے طور پر، دوسرے کی حرص یا ریس میں؛ حرصا حرصی، ہمسری کے طور پر۔ "چھوٹے بھائی کی طرف اشارہ کیا جو فلکا کو دیکھا دیکھی موم بتی کتر رہا تھا۔"      ( ١٩٨٢ء، ڈنکو، ١١٦ ) ٢ - دیکھتے دیکھتے، دیکھنے کے دوران۔ "ایسے شعراء موجود رہے جو بے سمجھے بوجھے محض دیکھا دیکھی شعر کہتے تھے۔"      ( ١٩٦١ء، اردو زبان اور اسالیب، ١٩ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم صفت 'دیکھا' کے ساتھ 'دیکھا' کی تانیث 'دیکھی' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم اور متعلق فعل استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٦٣٥ء سے "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - جانچ پڑتال، چھان بین۔ "یہاں تک دیکھا دیکھی ہوئے کہ ہر ایک کے لوح دل پر . صورت نقش ہو گئی۔"      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٩٨٥ ) ٣ - مشاہدہ کیا ہوا، خود سے دیکھا ہوا۔ "بھلا دیکھا دیکھی سنا سنی کے برابر کیسے ہو سکتی ہے۔"      ( ١٩٤٠ء، حکایات رومی، ٤٦:٢ ) ١ - نقالی کے طور پر، دوسرے کی حرص یا ریس میں؛ حرصا حرصی، ہمسری کے طور پر۔ "چھوٹے بھائی کی طرف اشارہ کیا جو فلکا کو دیکھا دیکھی موم بتی کتر رہا تھا۔"      ( ١٩٨٢ء، ڈنکو، ١١٦ ) ٢ - دیکھتے دیکھتے، دیکھنے کے دوران۔ "ایسے شعراء موجود رہے جو بے سمجھے بوجھے محض دیکھا دیکھی شعر کہتے تھے۔"      ( ١٩٦١ء، اردو زبان اور اسالیب، ١٩ )

جنس: مؤنث